
"تنہائی: ایک خاموش بیماری، جو جسم و دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے”
(صحت ڈیسک) — ماہرینِ نفسیات اور نئی سائنسی تحقیق کے مطابق تنہائی محض ایک وقتی احساس نہیں بلکہ یہ ایک سنجیدہ نفسیاتی و جسمانی مسئلہ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جو انسان کی ذہنی، جذباتی اور جسمانی صحت پر دیرپا اور خطرناک اثرات ڈال سکتی ہے۔
طویل عرصے تک تنہائی کا سامنا کرنے والے افراد کو نہ صرف ڈپریشن اور ذہنی دباؤ جیسی کیفیات لاحق ہو سکتی ہیں بلکہ ان کی یادداشت، نیند اور مدافعتی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
ذہنی صحت پر اثرات
ڈپریشن: ماہرین کے مطابق تنہائی ڈپریشن کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ فرد جب خود کو دوسروں سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے تو اس کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے اور زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔
ذہنی دباؤ (Stress): تنہا افراد روزمرہ کے چھوٹے مسائل کو بھی شدید محسوس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے تناؤ ہارمون (کورٹیسول) کا لیول مسلسل بلند رہتا ہے۔
یادداشت اور فیصلہ سازی: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ تنہائی دماغ کے ان حصوں کو متاثر کرتی ہے جو سیکھنے، سوچنے اور فیصلہ کرنے سے جُڑے ہوتے ہیں۔
دماغی بیماریوں کا خطرہ: مستقل تنہائی ڈیمینشیا یا دیگر نیورولوجیکل بیماریوں کے خطرے کو 40 سے 60 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔
جسمانی صحت پر اثرات
دل کی بیماریوں کا خطرہ: ماہرین کا کہنا ہے کہ تنہائی کا اثر دل پر وہی ہوتا ہے جو تمباکو نوشی یا موٹاپے سے ہوتا ہے۔ ایسے افراد میں بلڈ پریشر اور دل کی بے ترتیبی عام ہے۔
مدافعتی نظام کمزور: تنہا رہنے والے افراد کا قوتِ مدافعت کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے، جس سے وہ مختلف بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔
نیند میں خلل: تنہائی سے متاثرہ افراد کو نیند کی کمی، بار بار جاگنے یا گہری نیند نہ آنے جیسے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔
کم سرگرمی اور غیر صحت مند عادات: ایسے افراد عمومی طور پر کم متحرک ہو جاتے ہیں، ورزش چھوڑ دیتے ہیں، اور اکثر غیر متوازن غذا کا رجحان اپناتے ہیں۔
ماہرین کی تجاویز
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر آپ خود کو مسلسل تنہا محسوس کر رہے ہیں تو:
کسی قریبی دوست یا رشتہ دار سے رابطہ کریں
سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی کوشش کریں
باقاعدگی سے ورزش کریں
اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے سے نہ ہچکچائیں
تنہائی کو معمولی سمجھنے کے بجائے اس کے اثرات کو سنجیدگی سے لینا اور بروقت اقدام کرنا آپ کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔