
جکارتہ (نیوز ڈیسک) — مشرقی انڈونیشیا کے ساحلی علاقوں میں پیر کی شب ایک طاقتور زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کی شدت 6.7 ریکٹر اسکیل پر ریکارڈ کی گئی۔ خوش قسمتی سے اس زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے سونامی کا خطرہ لاحق نہیں، اور نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق، زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10:49 بجے آیا، جس کا مرکز مشرقی مالوکو صوبے کے شہر ٹوال سے 177 کلومیٹر مغرب میں واقع تھا، اور اس کی گہرائی زمین کے 66 کلومیٹر اندر تھی۔
سونامی وارننگ سینٹرز کی تصدیق
بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر اور انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ زلزلے میں سونامی پیدا ہونے کی کوئی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے زیرِ زمین گہرے زلزلے عموماً سطح پر محدود اثرات ڈالتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی سے بچا جا سکا۔
"رِنگ آف فائر” پر واقع ملک میں معمول کا خطرہ
انڈونیشیا "رِنگ آف فائر” کے نام سے مشہور زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، جہاں زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں ایک دوسرے سے مسلسل ٹکرا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلے ایک معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم اس حالیہ زلزلے میں کسی بھی قسم کی تباہی سے محفوظ رہنا خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
احتیاطی اقدامات اور نگرانی جاری
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے اور مقامی آبادی کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ کسی ممکنہ آفٹر شاک یا ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔