
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) — ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمبل ولسن نے احمد آباد طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ نے صورتحال کو واضح کرنے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دیا ہے، اور اس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، حادثے سے چند لمحے قبل کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان فیول کٹ آف سوئچ سے متعلق مبہم گفتگو ہوئی، اور حیران کن طور پر طیارے کے دونوں انجنوں کے فیول سوئچ ایک ساتھ بند ہو گئے۔ تاہم، رپورٹ میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ یہ اقدام کس وجہ سے کیا گیا یا یہ کسی تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا کسی اور سبب کا نتیجہ تھا۔
کیمبل ولسن نے وضاحت کی کہ رپورٹ میں کسی میکینیکل خرابی، مینٹیننس کی کوتاہی یا پائلٹس کی صحت و رویے سے متعلق کوئی منفی پہلو سامنے نہیں آیا، جسے وہ ایک حوصلہ افزا نکتہ قرار دیتے ہیں۔
پائلٹس کی تنظیموں کا سخت ردعمل
دوسری جانب، مختلف پائلٹ یونینز اور ہوابازی سے وابستہ اداروں نے اس رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر ٹھوس شواہد کے پائلٹس پر خودکشی یا دانستہ غلطی کے الزامات عائد کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ متاثرہ خاندانوں کے جذبات کے بھی منافی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حتمی رپورٹ تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور تحقیقات کو شفاف اور غیر جانب دار انداز میں مکمل کیا جائے۔
حادثے کی تفصیلات
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز — بوئنگ 787 ڈریم لائنر — روانگی کے کچھ دیر بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ حادثے میں طیارے پر سوار 241 مسافر اور زمین پر موجود 19 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ بھارتی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) نے اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی ہے، تاہم تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق، آنے والے ہفتے اس سانحے کی وجوہات پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں، جو ایوی ایشن سیکیورٹی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔