اوورسیزتازہ ترین

نیتن یاہو کو بڑا سیاسی دھچکا، اتحادی جماعت یو ٹی جے حکومت سے علیحدہ

یروشلم (نیوز ڈیسک) — اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں قائم حکومت کو ایک بڑا سیاسی جھٹکا لگا ہے، جب ان کی اہم اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) نے حکومت اور کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ پیشرفت فوجی سروس سے مذہبی طلبہ کو مستثنیٰ رکھنے کے بل پر اختلافات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تنازعے نے حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کی، جس کے بعد یو ٹی جے کا ایک رکن پہلے ہی مستعفی ہو چکا تھا، جب کہ اب باقی چھ ارکان نے بھی وزیراعظم کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

اس علیحدگی کے بعد 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں نیتن یاہو کی حکومت کو صرف ایک نشست کی معمولی برتری حاصل رہ گئی ہے، جو سیاسی عدم استحکام اور حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

سیاسی حلقے اس پیشرفت کو نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، ایک اور مذہبی اتحادی جماعت شاس پارٹی نے بھی مذکورہ بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ بھی حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں نیتن یاہو کو اپنے اتحادیوں کو منانے کے لیے سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی، وگرنہ ان کی حکومت کسی بھی وقت اکثریت کھو کر تحلیل ہو سکتی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button