
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے دیے گئے 90 روزہ احتجاجی تحریک کے اعلان کو پارٹی پالیسی نہ سمجھا جائے، یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
نجی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ "90 دن کی بات علی امین گنڈاپور کی ذاتی رائے ہے، یہ تحریک انصاف کی جانب سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں۔ ہم اپنی طے شدہ راہ پر گامزن ہیں، اور بانی پی ٹی آئی نے تحریک کو 5 اگست کے عروج کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔”
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی عوامی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور عوام نظریاتی طور پر تحریک انصاف کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ایک تاریخی مرحلے سے گزر رہے ہیں، ہمارا مقصد آئین کی بالادستی اور ایک حقیقی جمہوری نظام کا قیام ہے۔”
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ پاکستان دہائیوں سے طاقت کی سیاست میں پھنسا ہوا ہے، اور آج عوام کو حقیقی تبدیلی کے لیے متحرک ہونا ہوگا۔ "ہم ایک تاریک دور سے گزر رہے ہیں، جہاں انصاف کی امید عدالتوں سے باقی نہیں رہی، اور پورا نظام آلۂ جرم بن چکا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو پاکستان آ کر اپنے والد کی جدوجہد میں شریک ہونا چاہیے، یہ ان کا حق ہے۔
دوسری جانب، علی امین گنڈاپور کی جانب سے 90 روزہ تحریک کے اعلان پر پارٹی کے اندر سے سوالات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی پنجاب کی صدر عالیہ حمزہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "وزیراعظم خان کی رہائی کے لیے کس قسم کی تحریک یا حکمت عملی کا اعلان ہوا؟ 90 دن کی پلاننگ کہاں سے آئی؟”
یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور نے اتوار کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ 90 روزہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے، جو کہ "آر یا پار” ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے کونے کونے میں جا کر عوام کو متحرک کریں گے، چاہے حکومت میں رہیں یا نہ رہیں۔