
واشنگٹن: امریکی سینیٹ کی ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی نے ایک چشم کشا رپورٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جولائی 2024 میں ہونے والے قاتلانہ حملے سے متعلق سیکرٹ سروس کی سنگین کوتاہیوں اور ناقابلِ معافی ناکامیوں کا انکشاف کیا ہے۔
حملے کا پس منظر
یہ واقعہ 13 جولائی 2024 کو ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں اس وقت پیش آیا جب ایک انتخابی ریلی کے دوران 20 سالہ حملہ آور تھامس کروکس نے ٹرمپ پر فائرنگ کر دی۔ گولی سابق صدر کے کان کو چھوتی ہوئی گزر گئی، جبکہ ایک شہری ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
رپورٹ کے اہم نکات
سینیٹ رپورٹ کے مطابق:
سیکرٹ سروس نے انٹیلی جنس الرٹس کو نظر انداز کیا؛
مقامی سیکیورٹی اداروں سے رابطے میں ناکامی رہی؛
واقعے کے بعد فوری طور پر کسی بھی افسر کو برطرف نہیں کیا گیا؛
ان ناکامیوں کی وجہ "بیوروکریٹک بے حسی اور حفاظتی پروٹوکولز کی کمی” قرار دی گئی۔
کارروائی اور نتائج
رپورٹ سامنے آنے کے بعد:
چھ سیکرٹ سروس اہلکاروں کو معطل کر کے غیر فعال عہدوں پر منتقل کر دیا گیا؛
ان پر مواصلاتی، تکنیکی اور انسانی غلطیوں کے الزامات عائد کیے گئے؛
کمیٹی کے چیئرمین نے جوابدہی اور اداروں میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کر دیا۔
ٹرمپ کا ردِعمل
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اس واقعے کو "ناقابلِ فراموش لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا:
"خوش قسمتی سے میں وقت پر جھک گیا، ورنہ نتیجہ شاید مختلف ہوتا۔”
تجزیہ: امریکی سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان
یہ رپورٹ امریکی سیکرٹ سروس کی کارکردگی پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے اور امریکی سیکیورٹی ڈھانچے میں اصلاحات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا تو یہ امریکی تاریخ کا سب سے خطرناک سیکیورٹی بریک ڈاؤن بن سکتا تھا۔