
تہران: ایرانی وزیر داخلہ عباس عراقچی نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کے دورۂ ایران کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے دیا ہے۔
تہران میں ہونے والی ملاقات میں دونوں وزراء نے سرحدی تعاون، سیکیورٹی، زائرین کے مسائل اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
"تعلقات مضبوط ہوں گے” – عباس عراقچی
ایرانی وزیر داخلہ نے ملاقات کے دوران کہا:
"وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔”
محسن نقوی کا اظہارِ اطمینان
پاکستانی وزیر داخلہ نے ایرانی قیادت کی جانب سے ملنے والے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں یقین ہے کہ پاک-ایران-عراق سہ ملکی کانفرنس زائرین کے مسائل کے دیرپا حل میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔”
سہ ملکی کانفرنس کا مقصد
وزیر داخلہ محسن نقوی اس وقت تہران میں جاری سہ ملکی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، جس میں ایران اور عراق کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں۔
اس کانفرنس کے اہم مقاصد میں شامل ہیں:
زائرین کو درپیش مسائل کا حل
بارڈر مینجمنٹ میں بہتری
سیکیورٹی اور انتظامی تعاون میں وسعت
ایرانی صدر سے اہم ملاقات متوقع
محسن نقوی اپنے دورے کے دوران ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کریں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات، خطے کی سلامتی، اور زائرین کی سہولیات کے حوالے سے اہم بات چیت متوقع ہے۔
خطے میں تعاون کی نئی راہیں
ایرانی وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران نہ صرف جغرافیائی سرحد میں جُڑے ہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں سے بھی بندھے ہوئے ہیں۔ ان تعلقات کو اب عملی تعاون اور پالیسی سطح پر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔