پاکستانتازہ ترین

"اے این پی چھوڑنے کی وجہ، پی پی اور پی ٹی آئی سے دوری، اور ن لیگ میں شمولیت کا پس منظر ، ثمر ہارون بلور نے سب بتا دیا

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر اور اپنی سیاسی سوچ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن سے انہیں ایک سال قبل امیر مقام نے شمولیت کی دعوت دی تھی، لیکن خاندانی اور سیاسی ذمہ داریوں کی وجہ سے اس وقت فیصلہ نہ کر سکیں۔

ثمر بلور نے کہا کہ ان کی سیاسی تربیت بلور ہاؤس میں ہوئی اور وہ اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی دل سے قدر کرتی ہیں، تاہم اب وقت آگیا ہے کہ وہ ایسے پلیٹ فارم سے سیاست کریں جہاں ان کے خیالات کو جگہ ملے اور ان کی آواز سنی جائے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جب تک غلام بلور انتخابی سیاست میں تھے، وہ اے این پی کا حصہ رہنا چاہتی تھیں، مگر ان کی سیاست سے علیحدگی کے بعد وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آئیں۔

ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان ایک واضح خلا ہے، جسے وہ کم کرنا چاہتی ہیں۔ "جب ہم کے پی سے اسلام آباد یا پنجاب آتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے ہم کسی اور دنیا میں آ گئے ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ پختونخوا کے عوام کی تکالیف اور مسائل نہ صرف اجاگر کیے جائیں بلکہ ان کا مؤثر حل بھی پیش کیا جائے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن سے ان کا کوئی ذاتی مفاد یا وعدہ وابستہ نہیں، بلکہ وہ صرف عوامی خدمت کے جذبے کے تحت شامل ہوئی ہیں۔ "وزیراعظم سے میری ملاقات میں بھی یہی احساس ہوا کہ وہ خیبر پختونخوا کے لیے کچھ نیا اور بہتر کرنا چاہتے ہیں۔”

ثمر بلور نے تحریک انصاف کے سیاسی ماحول کو اپنی سوچ سے متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں وہاں رہ کر عوامی خدمت ممکن نظر نہیں آئی، جبکہ پیپلزپارٹی سے متعلق کہا کہ ان کی قیادت قابل احترام ہے، مگر انہیں لگا کہ ان کی آواز مسلم لیگ ن میں زیادہ بہتر انداز میں سنی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اے این پی کو چھوڑنے کے فیصلے کو صاف گوئی سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ چھپ کر نہیں کیا بلکہ غلام بلور اور دیگر اہم شخصیات کو اعتماد میں لے کر کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اے این پی میں بعض اوقات ان کی رائے اختلاف کا باعث بنتی تھی، اور یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔

ثمر ہارون بلور نے اپنے گھرانے کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر اور سسر دونوں شہید ہوئے، اور ان سانحات کے پیچھے تانے بانے افغانستان تک جاتے ہیں۔ "دہشت گردی کے خلاف ریاست کو جتنا سخت ہونا چاہیے، ہونا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ اب وہ 14 اگست کو اپنے بچوں کے ساتھ آزادی منانا چاہتی ہیں، پاک افغان میچ میں کھل کر پاکستان کو سپورٹ کرنا چاہتی ہیں، اور یہ سب ان کی سیاسی سوچ کی عکاسی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button