
اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کو ایک واضح پالیسی، سمت اور نظام کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے مؤثر قومی تحریک کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کسی تحریک کا مقصد صرف ایک شخص کی رہائی ہو، تو اس سے ملکی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت سنگین چیلنجز کا شکار ہے — نہ کوئی مستحکم نظام ہے، نہ پالیسی، اور نہ ہی معاشی ترقی کی کوئی سمت نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال عام پاکستانی غریب ہوتا جا رہا ہے، اور ان حالات میں قومی سطح پر بامقصد تحریک کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف کی حالیہ کوششوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ عمران خان اور ان کی جماعت کا اصل مقصد کیا ہے۔ "اگر مقصد صرف عمران خان کو جیل سے نکالنا ہے، تو یہ تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔ قوم کو درپیش بڑے مسائل پر بات کرنی چاہیے،” انہوں نے کہا۔
شاہد خاقان عباسی نے عمران خان کے بیٹوں کے ممکنہ کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نہیں خیال کہ وہ پاکستان آ کر کسی تحریک کی قیادت کر سکتے ہیں، اور اس سے کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک کامیاب تحریک وہی ہوتی ہے جو عوامی مسائل، قومی اصلاحات اور پائیدار ترقی کو مرکز بنائے — نہ کہ صرف شخصیات کے گرد گھومے۔