
واشنگٹن / دوحہ: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بالآخر قطر میں واقع العدید ائیر بیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ حملہ 23 جون کو کیا گیا تھا، جس کا نشانہ امریکا کے حساس مواصلاتی نظام کا ایک اہم حصہ تھا۔
پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق، ایرانی میزائل نے العدید اڈے پر موجود مواصلاتی ڈوم کو براہِ راست نشانہ بنایا، جو امریکی افواج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ حملے کے نتیجے میں مواصلاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
سیٹلائٹ تصاویر نے تباہی کا ثبوت فراہم کیا
سیٹلائٹ سے لی گئی حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن میں متاثرہ ڈوم کی چھت مکمل طور پر تباہ اور اندرونی ڈھانچے کو شدید نقصان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایران کی اعلیٰ میزائل ٹیکنالوجی اور درست نشانے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔
ٹرمپ کا بیان اور قطر کی خاموشی
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا:
"ایران نے حملے سے قبل اشارہ دے دیا تھا، جس کے باعث ہمیں بیس سے جزوی انخلا کا موقع مل گیا۔”
تاہم، قطر کی حکومت کی جانب سے تاحال اس حملے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جس پر بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایران-اسرائیل جنگ کا اہم موڑ
بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے بعد دونوں ممالک عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ایران کی یہ کارروائی امریکا کے لیے ایک سخت اور براہِ راست پیغام تھی کہ خطے میں اس کی موجودگی کو اب چیلنج کیا جائے گا۔
تجزیہ: خطے میں کشیدگی نئی سطح پر
یہ حملہ نہ صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید سنگین بنانے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ایران، امریکا اور قطر کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، آئندہ چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے حوالے سے نہایت اہم ہوں گے۔