
بیروت: لبنان نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ لبنان اور شام اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لبنانی صدر جوزف عون نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اور ایسی کسی پالیسی پر غور بھی نہیں کیا جا رہا۔
عرب میڈیا کے مطابق صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکان کو یکسر رد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنا قبضہ ختم نہیں کرتا، اسے تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
صدر نے مزید کہا کہ "ہم اپنے خطے میں امن کے خواہاں ضرور ہیں، لیکن اس کا مطلب اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات کی بحالی ہرگز نہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔”
یہ ردعمل اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنان اور شام نے اسرائیل سے سفارتی روابط بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر چند عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں، جس کے بعد کچھ حلقے یہ تاثر دے رہے تھے کہ لبنان اور شام بھی اسی سمت بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم لبنان کی حالیہ وضاحت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ قابض ریاست اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار نہیں، اور فلسطینی کاز اور عرب مؤقف پر اپنی وابستگی برقرار رکھے گا۔