
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 9 مئی کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو قانونی انصاف کی سمت ایک مثبت اور امید افزا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان کی سربراہی میں ہوئی، جس میں قریشی کی نمائندگی ایڈووکیٹ علی بخاری نے کی۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ اسی مقدمے میں شامل متعدد افراد کو عدالت پہلے ہی 8 مارچ 2025 کو بری کر چکی ہے، اور اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے قریشی کو بھی انصاف ملنا چاہیے۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے کو ماہرین انصاف کی فراہمی کی جانب ایک سنجیدہ قدم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا جا رہا ہے۔
اگر فیصلہ قریشی کے حق میں آتا ہے، تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پی ٹی آئی کے لیے بھی ایک بڑی قانونی کامیابی ہوگی، جو آئندہ قانونی اور سیاسی پیش رفت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو ملک میں قانون کی بالادستی اور شفاف عدالتی عمل کی علامت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت اس امید کے ساتھ عدالت کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں کہ انصاف پر مبنی ایک روشن مثال قائم ہوگی۔
یہ پیش رفت اس بات کی غماز ہے کہ ملک کا عدالتی نظام سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر میرٹ پر فیصلے کر رہا ہے، جو ایک مضبوط اور منصفانہ جمہوری نظام کی جانب روشن قدم ہے۔
Ask ChatGPT