اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

مشرق وسطیٰ کشیدگی: ٹرمپ جی-7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر روانہ

امریکی صدر نے کہا ہے کہ میری واپسی کا جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں، بات اس سے کہیں بڑی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال کے باعث جی-7 سربراہی اجلاس ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن واپس روانہ ہو گئے، جبکہ انہوں نے تہران کے شہریوں کو فوری انخلا کی تنبیہ بھی جاری کی ہے۔

جی-7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر وطن واپس پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے اپنی ٹرتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ میری واپسی کا جنگ بندی سے کوئی تعلق نہیں، بات اس سے کہیں بڑی ہے۔

انہوں نے فرانسیسی صدر میکرون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ غلط بات کرتے ہیں اور ان کا جنگ بندی کا دعویٰ بھی درست نہیں۔

فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اچانک جانے کو ممکنہ جنگ بندی کی کوششوں کے لیے ایک مثبت موقع قرار دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی پیشکش کی گئی ہے، اور اب دیکھنا ہوگا کہ فریقین اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں صرف جنگ بندی نہیں چاہتا، ہم اختتام چاہتے ہیں، ایک حقیقی اختتام۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران سے مکمل ہتھیار ڈالنے کی توقع ہے۔

قبل ازیں ، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ جی-7 اجلاس کے اختتام سے ایک روز قبل ہی کینیڈا سے روانہ ہوئے، اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کو سچویشن روم میں چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پیش نظر صدر عشائیے کے بعد عالمی رہنماؤں سے رخصت لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے جی-7 کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا، جس میں ایران-اسرائیل کشیدگی کم کرنے، جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے، اور اسرائیل کے دفاعی حق کو تسلیم کرنے کی شقیں شامل تھیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button