
وزارت خارجہ نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں قید 18 ہزار 533 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا گیا۔
یہ تفصیلات رکنِ قومی اسمبلی شازیہ مری کے سوال کے جواب میں فراہم کی گئیں، جنہوں نے بیرون ملک معمولی یا غیر مجرمانہ الزامات میں قید پاکستانیوں کی وطن واپسی کی سال بہ سال تفصیلات طلب کی تھیں۔
وزارت کے مطابق یہ شہری منشیات، امیگریشن خلاف ورزی، غیر قانونی داخلے اور دیگر متفرق مقدمات میں 22 ممالک میں قید تھے۔
سب سے زیادہ قیدی ملائیشیا سے 5,908، عمان سے 5,435، عراق سے 3,570، سعودی عرب سے,563 اور لیبیا سے 935 سے واپس لائے گئے۔
دیگر ممالک میں یونان سے 530، قازقستان سے 245، امریکہ سے 110، سری لنکا سے 56، الجزائر سے 37، مالدیپ سے 35، اٹلی و فلپائن سے 20، تھائی لینڈ سے 16، نائجیریا سے 15، چینگڈو سے 10، ایران سے 7، جبکہ برطانیہ و بیجنگ سے 6، نیپال سے 2 اور سنگاپور سے 2 پاکستانی وطن واپس آئے۔
وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی مشنز قونصلر معاونت، قانونی و طبی سہولیات، اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ بیرون ملک مقید شہری تنہا نہ رہیں۔
وزارت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، بالخصوص عدالتی مسائل سے دوچار افراد کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔