
برسلز میں پاکستان کے پارلیمانی وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کی سربراہ سے ملاقات کی۔ وفد نے دوطرفہ تجارت اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بلاول نے زور دیا کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور تنازعات کا مذاکرات سے حل چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور کشمیر، دہشتگردی اور پانی جیسے اہم تنازعات کا مذاکرات سے حل چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین انڈیا کو سندھ طاس معاہدے جیسی ماورائے قانون کارروائیوں سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انڈیا کا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قوانین اور بین الریاستی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یورپی یونین نے ہماری عوام کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور امید ہے کہ وہ انڈیا کو قانون کی پابندی پر مجبور کرے گی۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ اگر انڈیا کو پانی روکنے کی اجازت ملی تو پاکستان کی 70 فیصد آبادی متاثر ہو گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر بہتے پانی کو روکنے کا اصول تسلیم کر لیا گیا تو یہ دنیا وائلڈ ویسٹ بن جائے گی۔
وفد کے رکن سابق سفیر جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کی جی ایس پی پلس سے متعلق ریویو کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے، جس میں پاکستان کی حمایت کی امید کی جا رہی ہے۔