اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

اسرائیل کا ایران پر حملے کا خدشہ، ایران نے جنگی مشقیں شروع کر دیں

ایرانی صدر نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری تحقیق جاری رکھیں گے اور انہیں امریکی اجازت کی ضرورت نہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں خطرات گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جب کہ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر ایران نے جنگی مشقیں مقررہ وقت سے پہلے شروع کر دی ہیں۔

بین الاقومی میڈیا کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک سے اپنے سفارتی عملے اور فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کی واپسی شروع کر دی ہے۔ عراق، بحرین اور کویت میں تعینات افراد کو واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے، جب کہ امریکی وزیر دفاع نے بھی مخصوص فوجی اہلکاروں کے خاندانوں کو رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ہم امریکی غرور کے سامنے نہیں جھکیں گے، ہم کبھی یہ نہیں مانیں گے کہ اپنی جوہری تحقیق ختم کر دیں اور پھر ان کی اجازت کے منتظر رہیں کہ ہمیں صنعت، طب، زراعت اور دیگر سائنسی میدانوں کے لیے درکار جوہری مواد تک رسائی دی جائے۔

دوسری طرف بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے 20 برس میں پہلی بار ایران پر جوہری عدم تعاون کی بنیاد پر قرارداد منظور کی ہے، جس میں ایران پر غیر ظاہر شدہ جوہری سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ 19 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جب کہ ایران نے اسے سیاسی اقدام قرار دیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ وہ معاہدے کے حوالے سے پرامید نہیں رہے، اور اگر بات چیت ناکام ہوئی تو فوجی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ اسی تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے سینیٹ میں اپنی طے شدہ پیشی بھی مؤخر کر دی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن ہے، مگر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اب 60 فیصد افزودہ یورینیم کا 408 کلوگرام سے زائد ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 9 جوہری ہتھیاروں کے لیے کافی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button