
ایران نے پیر کی صبح اسرائیل پر 100 سے زائد بیلسٹک میزائل داغ کر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا، جس میں تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس اور حیفہ سمیت کئی شہر نشانہ بنے۔ ایرانی حملے کے نتیجے میں کم از کم 8 اسرائیلی شہری جان سے گئے اور 100 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ حیفہ پاور پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا کہ یہ حملے دفاعی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں، جبکہ کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔
اس سے قبل اسرائیل نے تہران، مشہد اور اصفہان سمیت متعدد مقامات پر بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی، ان کے نائب حسن محقق اور ایک اور کمانڈر محسن باقری جاں بحق ہوئے۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں 224 افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے مطابق آپریشن وعدہ صادق تھری کے تحت اسرائیل کے انٹیلی جنس مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اقوامِ عالم کو خبردار کیا کہ صہیونی مظالم کے خلاف مؤثر کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک جعلی حکومت اپنے انجام کو نہیں پہنچتی۔