
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ایران میں حالات معمول پر آنے تک سعودی عرب میں موجود ایرانی زائرین کو مہمان تصور کیا جائے گا اور انہیں تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ حج و عمرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ رہائش، خوراک اور سفری انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر فضائی حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی سمیت چھ جوہری سائنسدان اور کئی شہری شہید ہوئے تھے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان نے ایک منصوبہ شاہ سلمان کو پیش کیا جس کی منظوری کے بعد ایرانی عازمینِ حج کے لیے ہنگامی امدادی اقدامات کا آغاز کیا گیا۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ضروریات کو بروقت پورا کیا جائے ۔
ہر سال ہزاروں ایرانی شہری حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب آتے ہیں۔ رواں برس دنیا بھر سے 16 لاکھ سے زائد افراد نے حج ادا کیا۔ ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ تل ابیب پر جوابی حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔
سعودی حکومت نے موجودہ اقدام کو اسلامی اخوت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قرار دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ حجاج کرام کی خدمت مملکت کی اولین ترجیح ہے۔