
کراچی کے مشرقی علاقوں لانڈھی، قائدآباد، ملیر اور شاہ فیصل کالونی میں ہفتے کی صبح ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.2 ریکارڈ کی گئی۔ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، متعدد افراد کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے میدانوں میں نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ملیر کے شمال میں 12 کلومیٹر فاصلے پر زمین میں 35 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ یکم جون سے اب تک کراچی میں کم از کم 37 بار ہلکے یا درمیانے درجے کے جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں، جو غیر معمولی سرگرمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ان جھٹکوں کی وجہ لانڈھی فالٹ لائن پر جمع ہونے والی زلزلائی توانائی کا اخراج ہے، اور امید ہے کہ شدت میں بتدریج کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ سنگاپور کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق 2014 سے 2020 کے دوران لانڈھی اور ملیر کے علاقے زمین میں تقریباً 15.7 سینٹی میٹر تک دھنس چکے ہیں، جو دنیا کی تیز ترین زمینی دھنساؤ کی شرح میں شامل ہے۔
تحقیق کے مطابق زمینی پانی کا حد سے زیادہ نکالنا اور غیر منظم تعمیرات اس دھنساؤ کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ کراچی کا محلِ وقوع تین بڑی زمینی پلیٹوں انڈین، یوریشین اور عربین کے سنگم پر ہونے کے باعث اسے زلزلوں کا خطرہ لاحق ہے۔
ماہرین نے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے زیرزمین پانی کے استعمال میں کمی، سمندری پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس کی تنصیب، اور متاثرہ علاقوں میں بلند عمارات کی تعمیر پر پابندی کی سفارش کی ہے۔