اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

اسرائیل کے ایرانی جوہری مرکز پر مزید حملے، ایران کا جوابی ڈرون حملہ

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے فوری معاہدہ نہ کیا گیا تو ایرانی سلطنت صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اسرائیل نے ایران کے جوہری مرکز نطنز اور تبریز ایئرپورٹ پر تازہ حملے کیے ہیں۔ جب کہ ایران نے ڈرون حملوں سے جوابی وار کیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر پاکستانی دفترِ خارجہ میں ہنگامی سیل قائم کر دیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق ایران نے 100 سے زائد ڈرونز اسرائیل کی جانب بھیجے، جن میں سے کئی سرحد عبور کر چکے ہیں۔ اگرچہ ایرانی حکام نے اس جوابی حملے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم قریبی ممالک اور اسرائیل نے ڈرونز کو انٹرسیپٹ کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

اسرائیل نے تازہ حملوں میں ایران کے جوہری مرکز نطنز اور تبریز ایئرپورٹ سمیت مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں انقلابی گارڈز کے میزائل پروگرام کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ شہید ہو چکے ہیں۔

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ نطنز کے زیر زمین یورینیم افزودگی مرکز کو معمولی سطحی نقصان پہنچا ہے جبکہ اسرائیلی دعویٰ ہے کہ حملے کے بعد ایٹمی تنصیبات مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔

اس سے قبل اسرائیل نے ایران کے مختلف جوہری، عسکری اور رہائشی مراکز پر شدید حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، اور 6 معروف جوہری سائنسدان شہید ہوئے تھے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے اپنی خونریز تقدیر خود لکھ دی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری معاہدہ نہ کیا گیا تو ایرانی سلطنت صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ایران کو کئی مواقع دیے لیکن وہ معاہدے پر آمادہ نہ ہوا اور آئندہ حملے پہلے سے بھی زیادہ سنگین ہوں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت نے حملے جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

اس تمام صورتحال پر عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ چین، ترکی، سعودی عرب، روس اور یورپی یونین نے کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اردن، عراق اور متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران میں مقیم پاکستانیوں کی حفاظت کے لیے دفتر خارجہ میں ہنگامی سیل قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ادھر، لبنانی تنظیم حزب اللہ، فلسطینی گروہ حماس اور یمن کے حوثی باغیوں نے ایران سے یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button