پاکستانتازہ ترینتعلیم
ٹرنڈنگ

سندھ کا 3451 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں و پنشن میں اضافہ

مالی سال 2025-26 کے لیے تعلیم کیلئے 524 ارب اور صحت کیلئے 327 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے 3451 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا۔ گریڈ 1 تا 16 ملازمین کو 12 فیصد جبکہ گریڈ 17 تا 22 کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا۔ پنشن میں 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ معذور ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں بھی اضافہ کیا گیا۔

بجٹ میں 5 محصولات ختم کرنے، موٹر وہیکل ٹیکس میں کمی اور نیگیٹو لسٹ سسٹم کے ذریعے سیلز ٹیکس آسان بنانے کا اعلان کیا گیا۔ بجٹ کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.9 فیصد زیادہ ہے جبکہ موجودہ ریونیو اخراجات 2149 ارب روپے رکھے گئے۔

تعلیم کے لیے 524 ارب روپے رکھے گئے، جو موجودہ ریونیو اخراجات کا 25.3 فیصد بنتے ہیں۔ پرائمری تعلیم کا بجٹ 156.2 ارب اور سیکنڈری تعلیم کا بجٹ 77.2 ارب روپے کیا گیا۔ بجٹ میں 4400 نئے اساتذہ کی بھرتی، چار نئے آئی بی اے کمیونٹی کالجز، اور 34 ہزار سکولوں کو بااختیار بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ مستحق طلبہ کے لیے 2 ارب روپے کا ایجوکیشنل اینڈوومنٹ فنڈ بھی مختص کیا گیا ہے۔

صحت کے لیے 327 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں ایس آئی یو ٹی کو 19 ارب، پی پی ایچ آئی کو 16.5 ارب، اور لاڑکانہ میں نئے ہسپتال کے لیے 10 ارب روپے دیے گئے ہیں۔ دیہی علاقوں میں ایمبولینس اور موبائل ڈائیگنوسٹک یونٹس کی توسیع بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

کراچی میں سٹریٹ کرائم میں کمی اور انفرسٹرکچر کی بہتری کے لیے سیف سٹی منصوبے کے تحت اے آئی کیمروں، ٹریفک ریفارمز، اورالیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔

ترقیاتی بجٹ 520 ارب روپے ہے، جس میں 475 نئی سکیمیں شامل ہیں۔ زراعت، صفائی، توانائی، اور سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کو ترجیح دی گئی۔

حکومت نے نوجوانوں کیلئے آئی ٹی تربیتی پروگرام، سکولوں کی بحالی، اور ڈیجیٹل گورننس کے اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ بجٹ میں بلاک چین پر زمینی ریکارڈ، ڈیجیٹل پیدائشی رجسٹریشن، اور بے نظیر ہاری کارڈ کی فراہمی بھی شامل ہے۔
اپوزیشن نے بجٹ کو وڈیرا نواز قرار دے کر ایوان میں شدید احتجاج کیا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button