اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

لاس اینجلس میں امیگریشن مظاہرے نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر شدت اختیار کر گئے

ٹرمپ کے حکم پر 33 سال بعد نیشنل گارڈز کی تعیناتی کو لاس اینجلس کے گورنر نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

لاس اینجلس میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف مظاہروں کے تیسرے روز حالات مزید کشیدہ ہو گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر نیشنل گارڈز کے دستے شہر میں تعینات کیے گئے۔ مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے لیکن اب جھڑپوں، آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور متعدد گرفتاریوں میں بدل چکے ہیں۔

بعض مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں شدید تصادم ہوا۔ ویڈیو فوٹیج میں خودکار گاڑی کو جلتے اور مظاہرین کو میکسیکو کے جھنڈے لہراتے دیکھا گیا۔ ایک مقام پر مظاہرین نے سڑک بند کر دی جبکہ کے گھڑ سوار دستوں کے ساتھ براہ راست جھڑپیں بھی ہوئیں۔

ریاستی گورنر گیون نیوسم نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک صدر نہیں، بلکہ آمر کی حرکتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو وفاقی حکومت سے باضابطہ طور پر گارڈز واپس بلوانے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے اور وہ اب قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

پولیس نے اتوار کے روز لاس اینجلس میں کم از کم 10 اور سان فرانسسکو میں 60 مظاہرین کو گرفتار کیا۔ نئے وفاقی حکم کے تحت آئی سی اے روزانہ 3,000 تک افراد کو حراست میں لے رہا ہے، جن میں قانونی رہائشی بھی شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت گارڈز تعینات کیے، اس کی آئینی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مظاہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی مقاصد کے لیے جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button