
سپیس ایکس سٹارشپ راکٹ تجرباتی پرواز کے دوران ایک بار پھر تباہ
نویں تجرباتی پرواز میں سٹارشپ راکٹ نے امریکی ریاست ٹیکساس سے پرواز بھری تاہم 46 منٹ بعد رابطہ کھو دیا۔
ایلون مسک کی خلائی تحقیقاتی کمپنی سپیس ایکس کا سٹارشپ راکٹ ایک بار پھر تجرباتی مشن کے دوران زمین کی فضا میں دوبارہ داخلے سے پہلے بے قابو ہو کر تباہ ہوگیا، جبکہ پہلی بار استعمال ہونے والا سپر ہیوی بوسٹر بھی لینڈنگ سے قبل پھٹ گیا۔ کمپنی کے مطابق مشن کے کچھ مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے اور قیمتی ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔
نویں تجرباتی پرواز میں سٹارشپ راکٹ نے منگل 27 مئی کو امریکی ریاست ٹیکساس کے سٹار بیس سے شام 6 بجکر 36 منٹ پر اُڑان بھری۔ 400 فٹ بلند یہ راکٹ ایک سپر ہیوی بوسٹر کے ساتھ روانہ ہوا۔
مکمل رفتار کے ساتھ پرواز کرنے کے بعد سپر ہیوی بوسٹر نے 33 ریپٹر انجنز کے ساتھ ہاٹ سٹیج کی تکنیک سے بالائی حصے سے علیحدگی حاصل کی۔ بوسٹر نے غیر معمولی زاویے پر واپسی کی کوشش کی تاکہ رفتار کم ہو اور کم ایندھن سے لینڈنگ ممکن ہو سکے۔ مگر چھ منٹ بعد، جب وہ بحر امریکہ میں مجوزہ مقام پر لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا، تو اچانک رابطہ منقطع ہو گیا اور وہ تباہ ہو گیا۔
راکٹ کے بالائی حصے نے بھی کئی اہم مراحل کامیابی سے مکمل کیے، مگر خلاء میں اس کے پے لوڈ بے کا دروازہ نہیں کھل سکا جس سے آٹھ سٹار لنک سیٹلائٹ سیمولیٹر خارج نہ ہو سکے۔ بعد ازاں، سمت میں خرابی کی وجہ سے ری انٹری کے لیے درکار پوزیشن نہ بن سکی، اور رابطہ تقریباً 46 منٹ بعد ختم ہوگیا۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ مرکزی ٹینک میں دباؤ کی کمی مشن کی ناکامی کا سبب بنی، لیکن مشن سے اہم سیکھنے کے مواقع ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹارشپ انجن بند کرنے کے مقررہ مرحلے تک کامیابی سے پہنچا جو کہ ماضی کے مقابلے میں بڑی پیش رفت ہے۔
سپیس ایکس کے مطابق ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور آئندہ پروازوں کی تیاری کی جا رہی ہے، جن کی رفتار میں اضافہ کیا جائے گا، اور آئندہ 3 پروازیں ہر 3 سے 4 ہفتے بعد متوقع ہیں۔ کمپنی کے بقول، ترقیاتی تجربات کی فطرت غیر یقینی ہوتی ہے، مگر ہر سبق ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔