
محکمہ داخلہ پنجاب کی 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پولیس سٹورز سے 24 کروڑ 55 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود غائب ہو گیا ہے، جس میں سے اب تک کوئی بازیابی نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق صرف مظفرگڑھ کے ڈی پی او آفس سے 8 کروڑ 34 لاکھ روپے، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے 4 کروڑ 71 لاکھ روپے، اور پولیس آفس لاہور سے 4 کروڑ 68 لاکھ روپے مالیت کا اسلحہ غائب ہے۔ اس کے علاوہ سی پی او ملتان، ڈی پی او سیالکوٹ، ساہیوال، اوکاڑہ، گجرات اور فیصل آباد کے دفاتر سے بھی کروڑوں روپے کا اسلحہ اور گولہ بارود لاپتا پایا گیا۔
محکمہ داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ کریں گے۔ کمیٹی میں ڈی جی مانیٹرنگ اور ایڈیشنل سیکریٹری جوڈیشل بھی شامل ہیں، جنہیں 10 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان نے وضاحت کی کہ اسلحہ براہ راست ان کے پاس نہیں ہوتا بلکہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمے ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انکوائری مکمل ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔