
پاکستان میں سال 2025 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے بچوں کو مہلک وائرس سے محفوظ بنانا ہے۔ حکام کے مطابق، مہم 26 مئی سے 1 جون تک جاری رہے گی، جس کے دوران ملک بھر میں 4 کروڑ 58 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پولیو کے خلاف مہم کا آغاز وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے بچوں کو قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ قومی ترجیح اور اجتماعی ذمہ داری ہے، اور والدین اپنے بچوں کو ویکسین کے ساتھ ساتھ وٹامن اے کی خوراک بھی ضرور دیں۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس میں والدین سے جذباتی انداز میں اپیل کی کہ خدا کا واسطہ ہے، اپنے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں۔ یہ ان کی مستقل معذوری سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے .
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 50 اضلاع پولیو سے متاثر ہیں اور یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ قوم یکجہتی کا مظاہرہ کرے۔
یہ مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چلائی جا رہی ہے تاکہ خطے سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قطرے نہ پلوانے والے والدین کو روز قیامت اس مجرمانہ غفلت پر جوابدہ ہونا پڑے گا۔