پاکستانتازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی
ٹرنڈنگ

پاکستان میں بٹ کوائن اور اے آئی کے لیے 2000 میگاواٹ بجلی مختص

پاکستان میں کرپٹو صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے زائد ہے، جو اسے خطے میں ایک بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ بناتے ہیں۔

پاکستان نے بٹ کوائن مائننگ اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی غیر استعمال شدہ بجلی کو ایک قیمتی معاشی وسیلہ میں تبدیل کرنے کا سبب بنے گا۔

یہ منصوبہ پاکستان کرپٹو کونسل کی قیادت میں شروع کیا گیا ہے، جو کہ حکومت کے زیرِ انتظام ایک ادارہ ہے۔ اس کا مقصد اضافی توانائی کو مؤثر طریقے سے استعمال میں لا کر ڈیجیٹل اثاثہ جات پیدا کرنا، اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ملازمتیں فراہم کرنا، اور عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس اقدام کو پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں ایک فیصلہ کن سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق ہماری اضافی بجلی اب صرف ایک بوجھ نہیں، بلکہ جدیدیت، سرمایہ کاری اور ڈالر میں آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق، پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک ڈیجیٹل پل کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے عالمی بٹ کوائن مائنرز اور ڈیٹا کمپنیوں کی دلچسپی میں بے حد اضافہ کیا ہے۔ کئی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں جبکہ مزید دوروں کی توقع ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بجلی مختص کرنے کا فیصلہ ایک کثیر سطحی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام کی شروعات ہے۔ ایسے ڈیٹا سینٹرز اور بٹ کوائن مائننگ فارمز جو مسلسل اور بھاری مقدار میں توانائی استعمال کرتے ہیں، اب پاکستان کی کم استعمال شدہ بجلی کے لیے بہترین متبادل بن رہے ہیں۔

پاکستان کرپٹو کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال بن ثاقب نے بتایا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گا بلکہ حکومت کو براہِ راست بٹ کوائن میں زرمبادلہ جمع کرنے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

ان کے الفاظ میں اگر ضوابط شفاف ہوں، بین الاقوامی تعاون حاصل ہو، تو پاکستان ایک عالمی کرپٹو اور اے آئی طاقت بن سکتا ہے.

بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ مستقبل میں پاکستان اپنی مائننگ سے حاصل شدہ بٹ کوائن کو ایک قومی والٹ میں جمع کر سکتا ہے۔

پاکستان میں کرپٹو صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے زائد ہے، جو اسے خطے میں ایک بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ بناتے ہیں۔ مقامی اے آئی ڈیٹا سینٹرز نہ صرف ڈیٹا خودمختاری کے خدشات کو کم کریں گے بلکہ سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے اور خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانے میں بھی مددگار ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ قدم صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ خطے کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، اگر اس کو شفافیت، مضبوط ضوابط، اور عالمی شراکت داری کے ساتھ مکمل کیا جائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button