اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

ایران اور روس کا 20 سالہ سٹریٹجک معاہدہ، ایرانی پارلیمان کی منظوری

اس معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون، اقتصادی شراکت داری، اور دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

ایرانی پارلیمان نے روس کے ساتھ 20 سالہ جامع سٹریٹجک شراکت داری معاہدے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، اقتصادی، اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس سے قبل معاہدے پر جنوری 2025 میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دستخط ہوئے تھے۔

روس کی قانون ساز برانچ نے اپریل میں اس معاہدے کی منظوری دی تھی، تاہم ایرانی پارلیمان سے اس کی منظوری اب ہوئی ہے۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک مشترکہ سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کرنے، فوجی تکنیکی تعاون بڑھانے، اور مشترکہ مشقوں میں حصہ لینے پر متفق ہوئے ہیں۔

اقتصادی شعبے میں، معاہدہ بینکوں کے درمیان براہ راست تعاون، قومی مصنوعات کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران اور روس کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بھی نافذ ہو چکا ہے، جس کے تحت محصولات میں کمی کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور انہوں نے باہمی تعاون کو بڑھا کر ان پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

روس یوکرین جنگ کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات گہرے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک ایران پر روس کو ڈرونز دینے کے الزامات بھی عائد کرتے آئے ہیں تاہم ایران کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button