پاکستانتازہ ترین
ٹرنڈنگ

پاکستان انڈیا سفارتی کشیدگی: ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

اس سے قبل 13 مئی کو بھی دونوں ممالک نے سفارتخانے کے ایک ایک اہلکار کو ملک چھوڑنے کا کہا تھا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ نے 21 مئی کو نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار پر غیر سفارتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پاکستانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

پاکستان نے انڈیا کے اس اقدام کو بلاجواز اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا اور اگلے ہی روز 22 مئی کو اسلام آباد میں تعینات انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر فوری ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، مذکورہ انڈین سفارتکار ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا جو اس کے سفارتی استحقاق اور آداب کے منافی تھیں۔ اس موقع پر انڈین ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جنگ بندی کے ہونے کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل 13 مئی کو انڈیا نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کا ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے جواب میں پاکستان نے بھی ایک انڈین اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا کہا تھا۔

تازہ ترین سفارتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود نہ صرف زمینی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں گزشتہ روز سکول بس پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار بھی پاکستان نے انڈین حمایت یافتہ نیٹ ورکس کو قرار دیا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button