
پاکستان دنیا میں ٹی بی کے سب سے زیادہ کیسز والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے، جہاں 2023 میں 6,86,000 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ غربت، عدم مساوات اور سماجی ناانصافی سے جڑا ایک سنگین بحران ہے۔ کمزور معاشی حالات ٹی بی کے پھیلاؤ کو بڑھاتے ہیں، جبکہ متاثرہ گھرانے علاج کے مہنگے اخراجات، اجرت کے نقصان اور غذائی قلت جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
ملک میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور صحت سہولت پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات موجود ہونے کے باوجود، ٹی بی کے مریضوں کے لیے کوئی خاص مدد دستیاب نہیں۔ 95 ملین پاکستانی یومیہ $3.65 سے کم پر گزارہ کر رہے ہیں، جبکہ غذائی قلت کا بحران ٹی بی کے خلاف لڑائی کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔
روزانہ 1,200 کیلوریز اور 50 گرام پروٹین پر مشتمل خوراک ٹی بی مریضوں کی تیزی سے صحت یابی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی اس کو اپنانا ضروری ہے تاکہ ٹی بی کے خلاف مؤثر حکمت عملی بنائی جا سکے۔