اوورسیزتازہ ترینتعلیم

برطانیہ میں 200 پاکستانی ڈاکٹروں کے اعزاز میں افطار ڈنر

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے ٹریننگ پروگرام کے تحت تربیت مکمل کرنے والا ڈاکٹروں کا یہ بیچ وطن واپس جا کر صحت کے شعبے میں خدمات انجام دے گا۔

برطانیہ میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) ٹریننگ پروگرام کے تحت ہر سال درجنوں پاکستانی ڈاکٹرز تربیت کے لیے آتے ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو نکھار کر وطن واپس جا کر صحت کے شعبے میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس سال 200 پاکستانی ڈاکٹروں کا بیج اپنی تربیت مکمل کر چکا ہے، جن کے اعزاز میں ہفتے کو ایک شاندار افطار ڈنر کا انعقاد کیا گیا۔

یہ خصوصی تقریب برمنگھم کے ایک مقامی ہال میں منعقد ہوئی، جس میں برطانیہ میں موجود سینئر ڈاکٹرز، کمیونٹی رہنماؤں اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر CPSP سے تربیت مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کی کامیابی کا جشن منایا گیا۔

یہ تربیتی پروگرام ڈاکٹر جاوید کیانی اور ڈاکٹر اسد رحیم کی سرپرستی میں کامیابی سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ CPSP کا مقصد پاکستان کے باصلاحیت نوجوان ڈاکٹروں کو عالمی معیار کی طبی تربیت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ واپس جا کر اپنے ملک میں جدید طبی سہولیات متعارف کرا سکیں.

تقریب میں مختلف مقررین نے CPSP ڈاکٹروں کی خدمات کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ڈاکٹر جاوید کیانی نے اپنے خطاب میں کہا:
"یہ پروگرام پاکستان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے، جو ہمارے ڈاکٹروں کو عالمی سطح پر بہترین مہارتیں سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمارا مقصد پاکستان میں طبی شعبے کو مزید ترقی دینا ہے، اور یہ ڈاکٹرز اس خواب کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔”

تقریب میں شریک افراد نے CPSP کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام پاکستانی طبی شعبے میں نمایاں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے، اور امید ہے کہ مستقبل میں اس کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔

افطار کے بعد شرکاء نے پاکستانی ڈاکٹروں کے کردار اور CPSP پروگرام کی مزید وسعت پر تبادلہ خیال کیا۔ اس تقریب کو نہ صرف ایک اعزازی موقع قرار دیا گیا بلکہ یہ پاکستان اور برطانیہ کے طبی ماہرین کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بھی ثابت ہوئی۔

یہ تقریب CPSP ٹریننگ مکمل کرنے والے 200 ڈاکٹروں کے لیے نہ صرف ایک اعزازی موقع تھی بلکہ ایک نئی ذمہ داری کی یاد دہانی بھی، کہ وہ پاکستان جا کر اپنی مہارتوں سے قوم کی خدمت کریں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button