
اینویڈیا کی اے آئی چپ اب سب کے لیے دستیاب
این وی لنک فیوژن ٹیکنالوجی چپس کے درمیان تیز تر معلومات کی منتقلی یقینی بنائے گی۔
معروف ٹیکنالوجی کمپنی اینویڈیا نے تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں جاری کمپیوٹیکس 2025 نمائش کے دوران اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جدید ٹیکنالوجی "این وی لنک فیوژن” اب دیگر چِپ ساز اداروں کو بھی فراہم کرے گی۔
یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے تیار کی گئی ہے، جو ایک سے زائد چِپوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور جنہیں بڑی مقدار میں معلومات کی تیز تر منتقلی درکار ہوتی ہے۔
"این وی لنک فیوژن” فی الحال جی بی 200 جیسے سسٹمز میں استعمال ہو رہی ہے، جس میں دو بلیک ویل گرافکس چِپس اور ایک گریس پروسیسر کو آپس میں جوڑا گیا ہے تاکہ زیادہ طاقتور اور تیز رفتار AI سسٹم بنایا جا سکے۔ اب مارویل ٹیکنالوجی اور میڈیٹیک جیسے ادارے بھی اپنی کسٹم چِپوں میں اس ٹیکنالوجی کو شامل کرنے جا رہے ہیں۔
اینویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے اس موقع پر تائیوان میں کمپنی کے ایک نئے صدر دفتر کے قیام کا بھی اعلان کیا، جو تائی پے کے شمالی علاقے میں تعمیر ہوگا۔
اپنے خطاب میں ہوانگ نے کہا کہ اینویڈیا اب صرف ویڈیو گیمز کی چِپس بنانے والی کمپنی نہیں رہی، بلکہ مصنوعی ذہانت میں عالمی رہنما بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی توجہ اب سافٹ ویئر، ماڈلز چلانے والے سسٹمز، اور جدید AI چِپوں پر ہے۔
کمپنی نے حال ہی میں بلیک ویل الٹرا، روبن اور فائینمین نامی چِپس متعارف کروائی ہیں، جبکہ ڈی جی ایکس اسپارک نامی نیا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر بھی آئندہ چند ہفتوں میں دستیاب ہوگا۔