
پاکستان نے اسلام آباد میں 2025 کا پاکستان معدنیات سرمایہ کاری فورم (PMIF25) کا آغاذ کردیا گیا ہے ک، جس کا مقصد ملک کے وسیع معدنی ذخائر کو عالمی سطح پر متعارف کروانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ فورم میں دو ہزار سے زائد شرکاء نے شرکت کی، جن میں 300 بین الاقوامی مندوبین شامل تھے جو امریکہ، چین، سعودی عرب، برطانیہ، فن لینڈ، ڈنمارک اور کینیا سے آئے تھے۔
افتتاحی خطاب میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کے معدنی وسائل کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں اپنی بھرپور صلاحیت کے باوجود ابھی تک اس کے فوائد سے مکمل استفادہ نہیں کر رہا۔ انہوں نے ریکو ڈک اور دیگر قیمتی ذخائر جیسے نایاب زمین کے عناصر اور قیمتی پتھروں جیسے پرڈیٹ اور زمرد کا ذکر کیا، جو عالمی مارکیٹ میں انتہائی قیمتی ہیں۔
اس فورم کے دوران اسحاق ڈار نے نیشنل منرلز ہارمونائزیشن فریم ورک 2025 کا آغاز کیا، جو ایک اصلاحاتی پالیسی ہے جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات کو بہتر بنانا ہے۔ اس وقت پاکستان کا معدنیات کا شعبہ جی ڈی پی میں صرف 3.2 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے، تاہم یہ فورم اس شعبے کو عالمی سطح پر ایک اہم اقتصادی قوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فورم میں سعودی عرب اور امریکہ کے نمائندوں نے پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے دلچسپی ظاہر کی۔ وزیرِ توانائی علی پرویز ملک نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے قانونی اور انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا ہے۔ اس فورم کی کامیابی پاکستان کے معدنیات کے شعبے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرے گا۔