
پاکستان نے بیساکھی فیسٹیول کے لیے سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے
پاکستان نے 6500 سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر کے امن اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا، جبکہ زیارت کا آغاز 10 اپریل سے ہوگا۔
پاکستان نے رواں ماہ بیساکھی فیسٹیول کے موقع پر 6500 سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کر دیے ہیں۔ بیساکھی، جو کہ موسم بہار کے آغاز کے ساتھ منایا جانے والا ایک اہم تہوار ہے، خاص طور پر پنجاب اور شمالی بھارت میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار سکھوں کے نئے سال کی ابتدا اور روحانی تجدید کی علامت ہے، اور اس کا مرکزی مقام گوردوارہ پنجہ صاحب، حسن اَبدال ہے، جو اسلام آباد کے شمال مغرب میں تقریباً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پاکستان اور بھارت کی پنجاب تقسیم کے بعد، سکھوں کے کئی مقدس مقامات پاکستان میں واقع ہیں، جن میں گوردوارہ پنجہ صاحب، گوردوارہ نانکانا صاحب اور گوردوارہ کرتارپور صاحب شامل ہیں۔ یہ یاتری ان مقدس مقامات کی زیارت کے لیے پاکستان آتے ہیں، اور اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مذہبی ہم آہنگی اور امن کا پیغام بھی پہنچتا ہے۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ 6500 ویزے جاری کرنا اس کی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد لوگوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور سمجھ بڑھانا ہے۔ یہ ویزے پاکستانی حکومت کی طرف سے بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے محبت اور احترام کا مظہر ہیں، اور ان کی زیارت 10 اپریل سے 19 اپریل تک جاری رہے گی۔ گوردوارہ پنجہ صاحب میں سکھ مذہب کے بانی، گرو نانک کے ہاتھ کا نشان ایک مقدس پتھر پر موجود ہے، جو ہر سال ہزاروں سکھوں کے لیے روحانی عقیدت کا مرکز بنتا ہے۔
یہ یاتری ہر سال پاکستان آ کر مختلف مذہبی تہواروں میں شرکت کرتے ہیں، جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی روابط اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔