
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے ملک بھر میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد پاسپورٹس پراسرائیل پر سفری پابندی کی تحریر کو دوبارہ پاسپورٹس میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بنگلہ دیشی وزارتِ داخلہ کے ہدایات پر محکمہ امیگریشن اور پاسپورٹ نے دوبارہ وہ عبارت شامل کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قابل قبول ہے، سوائے اسرائیل کے۔‘‘ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوامی احساسات کی ترجمانی کرنا ہے۔
یہ عبارت ماضی میں بنگلہ دیشی پاسپورٹس کا حصہ تھی، تاہم سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں اسے ہٹا دیا گیا تھا۔
اُس وقت حکومت نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل سے متعلق بنگلہ دیش کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، مگر اس وضاحت کے باوجود عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی تھی۔
چار سال بعد ایک بار پھر یہ عبارت پاسپورٹ کا حصہ بنی ہے اور اب تمام نئے جاری ہونے والے بنگلہ دیشی پاسپورٹس میں اسرائیل کے لیے سفری پابندی واضح طور پر درج ہوگی۔