
وزیراعظم محمد شہباز شریف کے حالیہ سرکاری دورۂ بیلاروس کے دوران پاکستان اور بیلاروس کے درمیان معاشی تعاون، سرمایہ کاری، اور افرادی قوت کی فراہمی کے حوالے سے اہم معاہدے طے پاۓ ہیں۔ونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، تجارتی حجم بڑھانے اور صنعتی و زرعی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر اتفاق کیا۔
دورے کے دوران بیلاروس نے پاکستان کو 1.5 لاکھ ہنر مند نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کی پیشکش کی، جسے وزیراعظم نے "پاکستانی عوام کے لیے تحفہ” قرار دیا۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کو نہ صرف افرادی قوت کے شعبے میں فائدہ ہوگا بلکہ یہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے زرعی مشینری، الیکٹرک بسوں، معدنی وسائل کے استعمال اور خوراک کی سلامتی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر اتفاق کیا۔ دفاعی تعاون، تجارتی تعلقات، ماحولیاتی تحفظ اور پوسٹل سروسز سے متعلق متعدد یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کیے ۔وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ صدر بیلاروس نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم کے دورے کو تعلقات کے فروغ میں سنگِ میل قرار دیا۔
یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو تقویت دے گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام اور شراکت داری کو بھی فروغ دے گا۔