
وسطی یورپ میں مویشیوں میں، منہ کھر کی بیماری کی وباء پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں مویشیوں کو تلف کیا جا چکا ہے اور چار ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سرحدیں بند کر دی ہیں۔
وباء کا آغاز مارچ کے شروع میں سلوواکیہ سے ہوا جہاں نصف صدی کے دوران پہلی مرتبہ یہ بیماری مویشیوں میں پائی گئی۔
اس کے بعد ہنگری سے منہ کھر کی اطلاعات ملیں جہاں کے حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ وباء کی وجہ بننے والا وائرس، مصنوعی طور پر لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔ البتہ اس ضمن میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے۔
ہنگری اور آسٹریا نے اپنی ملحقہ سرحدیں بند کر دی ہیں اور احتیاط کے طور پر آسٹریا اور چیک ریبلک کی سرحدیں بھی بند کر دی گئی ہیں جہاں سے فی الحال منہ کھر کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔