پاکستانتازہ ترینسائنس ٹیکنالوجیصحتلائف سٹائل
ٹرنڈنگ

پاکستان میں پہلی مقامی طور پر تیار کردہ بایونک ٹانگ خاتون کو لگا دی گئی

جدید سینسرز سے لیس ٹانگ دوڑنے، سائیکل چلانے اور غیر ہموار راستوں پر حرکت کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستان میں پہلی بار ایک خاتون مریضہ کو مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ بایونک ٹانگ نصب کی گئی، جو لاہور کے ایک فلاحی ادارے میں لگائی گئی۔ یہ جدید کمپیوٹرائزڈ مصنوعی ٹانگ ان افراد کے لیے تیار کی گئی ہے جو حادثات یا دیگر صدمات کے باعث اپنی ٹانگوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

بایونک ٹانگ میں نصب ذہین سینسرز مریض کی رفتار، راستے کے اتار چڑھاؤ اور زاویے کو خودکار طور پر محسوس کر کے حرکت کو ہم آہنگ کرتے ہیں، جس سے چلنے کا انداز زیادہ قدرتی محسوس ہوتا ہے۔

روایتی مصنوعی اعضا کے برعکس، یہ ٹانگ نہ صرف عام چلنے بلکہ سیڑھیاں چڑھنے، دوڑنے، سائیکل چلانے اور ناہموار راستوں پر حرکت کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس سے مریض کی روزمرہ زندگی میں خودمختاری اور نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

ماضی میں ایسے جدید مصنوعی اعضا کے خواہشمند افراد کو علاج کے لیے بھارت، جرمنی یا امریکہ جیسے ممالک جانا پڑتا تھا۔ تاہم اب یہ ٹیکنالوجی ملک میں دستیاب ہونے سے مقامی سطح پر بحالی صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button