
عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نومبر 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خوراک کی عدم دستیابی اور بچوں میں غذائی قلت چھٹے سال مسلسل بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ دیہی اضلاع میں 2017 سے اب تک شدید غذائی بحران جاری ہے، جبکہ بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقے طویل خشک سالی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔
اگرچہ 2024 میں معمول سے زیادہ بارشوں نے زرعی پیداوار کو کچھ سہارا دیا، لیکن جولائی سے ستمبر 2024 کے دوران غیر معمولی مون سون بارشوں نے بلوچستان اور سندھ کے کئی علاقوں میں سیلاب اور زمین کھسکنے جیسے خطرناک حالات پیدا کیے، جس سے فصلیں، گھر اور زرعی ڈھانچے تباہ ہو گئے۔ 2022 کے موسمیاتی تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زرعی بحالی تاحال مکمل نہیں ہو سکی، جس کی وجہ وسائل کی کمی، مویشیوں کا نقصان، اور معاشی مشکلات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں FAO نے اپنی کوریج 2024 سے 2025 کے درمیان 38 فیصد تک بڑھا دی، جو اب 50.8 ملین افراد پر مشتمل ہے اور 25 اضافی اضلاع کا احاطہ کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کمزور معیشت، خواتین کی کم شراکت، اور پانی کے ذخائر کی کمی جیسے مسائل بھی غذائی بحران کو بڑھا رہے ہیں۔
عالمی سطح پر 2024 میں 53 ممالک میں 29 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 1 کروڑ 37 لاکھ کا اضافہ ہے۔