
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج 17 مئی کو ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون) کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد اس خاموش لیکن مہلک بیماری کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ لوگ اس کی وجوہات، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ ہو سکیں۔
اس سال کا تھیم "اپنا بلڈ پریشر درست طریقے سے ناپیں، اسے قابو میں رکھیں، اور لمبی زندگی گزاریں” ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 1۔28 ارب لوگ اس بیماری کا شکار ہیں اور ان میں سے 46٪ افراد اس مرض میں مبتلا ہونے سے لاعلم ہیں۔
عالمی ادارہِ صحت کی جنوبی ایشائی ڈائریکٹر سائمہ واجد کے مطابق صرف جنوبی ایشیا میں 29 کروڑ سے زائد افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔
پاکستان میں اس مرض کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں تقریباً 2 کروڑ سے زائد افراد ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہیں، اور اس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ بیماری اکثر بغیر کسی ظاہری علامات کے خاموشی سے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے اس لیے اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دل کے امراض، فالج، دماغی شریان پھٹنے اور گردوں کی بیماریوں جیسے مہلک مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد بلند فشار خون کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ماہرین صحت نے اس بیماری سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرز زندگی، متوازن غذا، نمک اور چکنائی سے پرہیز، باقاعدہ ورزش اور ذہنی دباؤ سے نجات کو ضروری قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق باقاعدہ چیک اپ اور خون کے دباؤ کی نگرانی اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی یومِ ہائی بلڈ پریشر پہلی مرتبہ سال 2005 میں منایا گیا اور اس کے بعد ہر سال 17 مئی کو دنیا بھر میں اس بیماری سے متعلق آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔