
سنگاپور کی ایک عدالت نے 32 سالہ ہی لک یوان کو 31 لڑکیوں سے ’شوگر بے بی‘ کے بہانے جنسی مواد اور خدمات حاصل کرنے پر 81 ماہ قید اور چھ کوڑوں کی سزا سنائی۔
ملزم نے 2019 سے 2021 کے دوران سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے متاثرہ لڑکیوں سے رابطہ کیا اور اپنے آپ کو خوشحال ظاہر کرتے ہوئے ان سے جنسی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر خدمات کے بدلے رقم کی پیشکش کی، تاہم وعدہ کردہ رقم فراہم نہیں کی۔
ہی لک یوان نے جنوری میں 15 الزامات کا اعتراف کیا، جب کہ مزید 44 الزامات کو سزا کے تعین میں شامل کیا گیا۔ اس پر نابالغوں سے جنسی تعلق، جنسی مواد کی تیاری، دھمکیاں دینے اور دھوکہ دہی جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر تان جِنگ من نے ان جرائم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سے 100 سے 107 ماہ قید اور سات سے نو کوڑوں کی سزا کی درخواست کی۔
ملزم کے وکیل تانایا کنجاودیکر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنے جرائم کی سنگینی تسلیم کی ہے، رضاکارانہ طور پر ضمانت منسوخ کروائی، اور نفسیاتی علاج بھی کرایا تاکہ اپنے رویے میں بہتری لا سکے۔
ڈسٹرکٹ جج او یونگ ٹک لیونگ نے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی اور یہ جرائم باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔ جج نے واضح کیا کہ نابالغ لڑکیوں کی رضامندی کو ان کی عمر اور حالات کے تناظر میں قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ مقدمہ 20 مارچ 2021 کو اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ایک متاثرہ لڑکی نے پولیس کو شکایت کی کہ وہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنی، جس کے بعد پولیس نے ہی لک یوان کو گرفتار کر لیا۔
عدالت نے فیصلے میں زور دیا کہ نابالغوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں اور ایسے جرائم کے خلاف قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔