اوورسیزتازہ ترین

روس میں فوجی بھرتی کی سب سے بڑا آپریشن، ماسکو میں درجنوں نوجوان گرفتار

پیوٹن کے حکم نامے کے تحت 1 لاکھ 60 ہزار افراد کی بھرتی کا ہدف، ماضی کے تمام اعداد و شمار پیچھے چھوڑ دیے گئے۔

روس میں حکام نے فوجی بھرتی کی سب سے بڑی مہم شروع کر دی ہے، جس کے تحت صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ حکم نامے کے مطابق 2025 کی بہار میں 1 لاکھ 60 ہزار افراد کو فوج میں شامل کیا جائے گا۔ یہ ہدف پچھلے سالوں سے کہیں زیادہ ہے، 2024 میں 1 لاکھ 50 ہزار، 2023 میں 1 لاکھ 47 ہزار اور 2022 میں 1 لاکھ 35 ہزار 5 سو افراد کی بھرتی کی گئی تھی۔

آزاد خبررساں ادارے ”احتیاط نووستی“ کے مطابق دارالحکومت ماسکو میں کم از کم پانچ افراد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب انہیں فوجی دفاتر کی جانب سے طلبی کے نوٹس دکھائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بعض کو فوری طور پر بھرتی مراکز منتقل کر دیا گیا، جبکہ چند افراد گرفتاری کے بعد سے لاپتا ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ افراد گرفتاری کے بعد سے لاپتا ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔میڈیا کے مطابق ان افراد میں کچھ ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو ماضی میں دائمی بیماریوں یا سرکاری رعایتوں کی بنیاد پر فوجی خدمات کے لیے نااہل قرار دیے جا چکے تھے، تاہم اب انہیں بھی بھرتی دفاتر بھیجا جا رہا ہے۔

روس کو کنٹریکٹ فوجیوں کی بھرتی میں بھی بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یومیہ بھرتی کا خرچہ اب دو ارب روبل (تقریباً 23.7 ملین امریکی ڈالر) سے تجاوز کر چکا ہے۔

دی ماسکو ٹائمز کے مطابق، موجودہ بھرتی مہم میں روزانہ 1,000 سے 1,500 کنٹریکٹ فوجی شامل کیے جا رہے ہیں، جن میں سے اکثریت معاشی طور پر پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔

ادارے ”ملترنی“ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایوانوو خطے میں مردوں کو اغوا کر کے زبردستی فوجی معاہدوں پر دستخط کروائے جا رہے ہیں۔

سال 2024 کے موسمِ خزاں سے اب تک چھ افراد لاپتا ہو چکے ہیں، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ غربت، صحت کے مسائل اور غیر رسمی روزگار جیسے مسائل سے دوچار تھے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button