اوورسیزتازہ ترینلائف سٹائل

جاپان کی آبادی میں ریکارڈ کمی، بحران گہرا ہونے لگا

1950 کے بعد سب سے بڑی کمی 2024 میں ہوئی، 8.98 لاکھ شہری کم ہوئے۔

سال 2024 کے دوران جاپان کی آبادی میں 5 لاکھ 50 ہزار افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل 14ویں سالانہ کمی ہے۔ یہ اعداد و شمار حال ہی میں وزارتِ داخلہ و مواصلات نے جاری کیے، جو ملک کے گہرے ہوتے آبادیاتی بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2024 تک جاپان کی کل آبادی 12 کروڑ 38 لاکھ رہی۔ جاپانی شہریوں کی تعداد میں 8 لاکھ 98 ہزار کی کمی ہوئی، جس کے بعد یہ تعداد 12 کروڑ 3 لاکھ رہ گئی۔ یہ 1950 سے اب تک ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی سالانہ کمی ہے۔

تیزی سے کم ہوتی آبادی نے جاپان کے محنت کش طبقے، پنشن، اور سماجی تحفظ کے نظام پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ 15 سے 64 سال کے درمیان کام کرنے کے قابل افراد کی تعداد 2 لاکھ 24 ہزار کی کمی کے بعد 7 کروڑ 37 لاکھ رہ گئی۔

بچوں کی آبادی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی، جو 3 لاکھ 43 ہزار کی کمی کے بعد 1 کروڑ 38 لاکھ رہ گئی۔ یہ جاپان کی کل آبادی کا صرف 11.2 فیصد ہے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل سرکاری اعداد و شمار نے 2024 میں شرحِ پیدائش کو تاریخی کم ترین سطح پر ظاہر کیا تھا۔

غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل تیسرے سال اضافہ ہوا، جو 3 لاکھ 42 ہزار کے اضافے کے بعد بھی آبادی میں مجموعی کمی کو پورا نہ کر سکی۔

جاپان کی آبادی 2008 میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی، جس کے بعد مسلسل کمی کا رجحان جاری ہے۔ ملک کے 47 میں سے 45 صوبوں میں آبادی میں کمی دیکھی گئی، جن میں سب سے زیادہ کمی اکیٹا صوبے میں ریکارڈ کی گئی۔ صرف ٹوکیو اور سائیتاما وہ صوبے ہیں جہاں معمولی اضافہ ہوا۔

اگرچہ جاپان میں بے روزگاری کی شرح 2.4 فیصد کے ساتھ او ای سی ڈی ممالک میں سب سے کم ہے، تاہم ریکروٹ ورکس انسٹیٹیوٹ کے مطابق محنت کشوں کی مسلسل کمی کے باعث ملک کو 2040 تک ایک کروڑ 10 لاکھ کارکنوں کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

حکومت نے بچوں کی پرورش اور والدین کی معاونت کے لیے سالانہ 3.5 ٹریلین ین (تقریباً 25 ارب ڈالر) مختص کیے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ رجحانات کو روکنے کے لیے مزید جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جاپان کا آبادیاتی بحران ان چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا جنوبی کوریا، فرانس، اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی کر رہے ہیں، جہاں شرح پیدائش میں کمی اور آبادی کے بڑھتے ہوئے بڑھاپے کے مسائل نمایاں ہو چکے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button