
انڈین سپلائرز نے امریکا کو ریکارڈ 2 ارب ڈالر مالیت کے آئی فونز برآمد کیے
مارچ میں برآمدات 63 فیصد اضافے سے 612 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جن میں آئی فون 15 اور 16 ماڈلز شامل تھے۔
ایپل کے انڈین سپلائرز فاکسکون اور ٹاٹا نے مارچ 2025 میں امریکا کو مجموعی طور پر 2 ارب ڈالر مالیت کے آئی فونز برآمد کیے۔ کسٹمز ڈیٹا کے مطابق یہ ایک ماہ میں برآمدات کا ریکارڈ حجم ہے، جو ممکنہ امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے فضائی راستے سے کی گئی ترسیلات کا نتیجہ تھا۔
ایپل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ درآمدی ڈیوٹی کے خدشے کے پیش نظر انڈیا سے پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا اور 600 ٹن آئی فونز امریکا منتقل کرنے کے لیے کارگو طیارے چارٹر کیے۔
مارچ کے دوران فاکسکون نے 1.31 ارب ڈالر مالیت کے آئی فونز برآمد کیے، جن میں آئی فون 13، 14، 16 اور 16 ای ماڈلز شامل تھے۔ اس طرح رواں سال کے پہلے تین ماہ میں فاکسکون کی امریکا کو مجموعی برآمدات 5.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب، ایپل کے انڈین سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس کی مارچ میں برآمدات 612 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو فروری کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ تھیں۔ ان میں آئی فون 15 اور 16 کے ماڈلز شامل تھے۔
کسٹمز ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ میں فاکسکون کی تمام ترسیلات چنئی ایئر کارگو ٹرمینل سے فضائی راستے سے امریکا بھیجی گئیں۔ ان کی منزلوں میں لاس اینجلس، نیویارک اور شکاگو شامل تھے، جہاں شکاگو کو سب سے زیادہ کھیپ موصول ہوئی۔
امریکی انتظامیہ نے اپریل میں انڈیا سے درآمدات پر 26 فیصد ڈیوٹی عائد کی، جبکہ چین سے درآمدات پر یہ شرح 100 فیصد سے زائد ہے۔ تاہم، چین کے علاوہ دیگر ممالک کے لیے ان ڈیوٹیز کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
بعد ازاں، ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی بعض سمارٹ فونز اور الیکٹرانکس پر عائد بھاری ڈیوٹی سے عارضی طور پر چند اشیاء کو استثنیٰ دیا، مگر انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ یہ رعایت طویل مدت تک برقرار نہیں رہے گی۔