
کاکروچ کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ غذائیت بخش؟
سائنس دانوں کے مطابق کاکروچ کا دودھ گائے کے دودھ سے ذیادہ غذائیت بخش اور توانائی سے بھرپور ہے۔
سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مخصوص قسم کے کاکروچ کا دودھ، جس کا انسانی استعمال فی الحال ممکن نہیں، غذائیت اور توانائی کے لحاظ سے گائے کے دودھ سے کئی گنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، یہ منفرد مائع نہ صرف کیلوریز سے بھرپور ہے بلکہ پروٹین، امائنو ایسڈز، صحت مند چکنائیوں اور قدرتی شوگرز کا بھرپور امتزاج بھی پیش کرتا ہے۔
یہ دریافت بھارت کے شہر بنگلور میں قائم انسٹیٹیوٹ فار اسٹیم سیل بایولوجی اینڈ ری جنریٹیو میڈیسن کے سائنس دانوں نے کی، جنہوں نے پیسفک بیٹل کاکروچ کے اندرونی نظام کا مطالعہ کیا۔ وہ واحد نسل جو انڈے دینے کے بجائے براہِ راست بچے پیدا کرتی ہے۔ مادہ کاکروچ اپنے بچوں کو ایک زرد دودھ نما مائع سے غذا فراہم کرتی ہے، جو معدے میں جا کر کرسٹل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی کرسٹل تحقیق کا مرکز بنا۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے بایوکیمسٹ سبریمانین راما سوامی کا کہنا تھا کہ یہ دودھ بھینس کے دودھ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ توانائی فراہم کرتا ہے، اور اس میں موجود غذائی اجزا انسانی جسم کی کئی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب دنیا ماحولیاتی دباؤ، بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں کیڑوں سے حاصل کردہ متبادل خوراک مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کاکروچ کی افزائش نہ صرف کم وسائل مانگتی ہے بلکہ یہ ڈیری فارمنگ کے مقابلے میں ماحولیاتی طور پر بھی کم نقصان دہ ہے۔
تاہم، یہ نظریہ ابھی کئی سائنسی اور عملی چیلنجز سے دوچار ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس دودھ کی صنعتی پیداوار ہے، کیونکہ فی الوقت ہر کاکروچ سے دستی طور پر دودھ نکالنا ممکن نہیں۔ مزید برآں، اس کی انسانی صحت پر اثرات سے متعلق ابھی سائنسی شواہد محدود ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں اس کی محفوظ پیداوار ممکن ہوئی، تو کاکروچ کا دودھ ایک طاقتور اور مکمل سپرفوڈ کے طور پر انسانی غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے — لیکن اسے متوازن خوراک کا متبادل نہیں بلکہ ایک تکمیلی جز ہی سمجھنا چاہیے۔