تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی
ٹرنڈنگ

چین کے سب سے بڑے ایمفیبیئس طیارے کو تجارتی پرواز کی منظوری مل گئی

طیارے نے پانی اور زمین دونوں پر کامیاب آزمائشی پروازیں مکمل کیں۔

چین کے مقامی طور پر تیار کردہ سب سے بڑے ایمفیبیئس ایئرکرافٹ اے جی 600 کو سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن آف چائنا نے ٹائپ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد اسے تجارتی پرواز کی اجازت حاصل ہو گئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں فراہمی کی راہ کھل گئی ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا کے مطابق، اے جی 600 نے تمام آزمائشی مراحل کامیابی سے طے کیے ہیں۔ یہ طیارہ زمین اور پانی دونوں پر اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جسامت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ایمفیبیئس ایئرکرافٹ ہے۔

اے جی 600 چین کا دوسرا ایمفیبیئس طیارہ ہے۔ اس سے قبل 1970 کی دہائی میں عسکری مقاصد کے لیے SH-5 تیار کیا گیا تھا، جو اب ریٹائر ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے چین کی عالمی ہوا بازی کی صنعت میں شمولیت کی کوششوں کو نئی توانائی ملے گی۔ تجارتی ترسیل سے قبل ممکنہ خریدار، بالخصوص ایمرجنسی سروسز اور بحری نگرانی کے ادارے، اس جدید طیارے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

چین کے مقامی طور پر تیار کردہ سب سے بڑے ایمفیبیئس ایئرکرافٹ اے جی 600 کو سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن آف چائنا نے ٹائپ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد اسے تجارتی پرواز کی اجازت حاصل ہو گئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں فراہمی کی راہ کھل گئی ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا کے مطابق، اے جی 600 نے تمام آزمائشی مراحل کامیابی سے طے کیے ہیں۔ یہ طیارہ زمین اور پانی دونوں پر اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جسامت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ایمفیبیئس ایئرکرافٹ ہے۔

اے جی 600 چین کا دوسرا ایمفیبیئس طیارہ ہے۔ اس سے قبل 1970 کی دہائی میں عسکری مقاصد کے لیے SH-5 تیار کیا گیا تھا، جو اب ریٹائر ہو چکا ہے۔

یہ طیارہ چین کے تین اہم فضائی منصوبوں میں شامل ہے، جن میں Y-20 اسٹریٹیجک ٹرانسپورٹ ایئرکرافٹ اور C919 نیرو باڈی جیٹ لائنر بھی شامل ہیں۔ دونوں ماڈلز پہلے ہی فعال سروس میں شامل کیے جا چکے ہیں۔

اے جی 600 کی تیاری کا فیصلہ مرکزی حکومت نے جون 2009 میں کیا تھا، اور ستمبر 2009 میں اس پر کام کا آغاز ہوا۔ اس منصوبے میں ملک بھر کے 312 تحقیقی اور صنعتی اداروں کے ہزاروں ماہرین اور انجینئرز نے حصہ لیا۔ پہلا پروٹوٹائپ مارچ 2014 میں تیار ہونا شروع ہوا اور جولائی 2016 میں مکمل کیا گیا۔

طیارے نے دسمبر 2017 میں گوانگڈونگ کے شہر ژوہائی میں روایتی ہوائی اڈے سے اپنی پہلی آزمائشی پرواز کی۔ اگست 2018 میں اس نے ژانگھے ریزروائر (صوبہ ہوبے) سے پانی سے اڑان اور لینڈنگ کے کامیاب تجربات کیے۔

جولائی 2020 میں اے جی 600 نے زرد سمندر کے اوپر اپنی پہلی سمندری آزمائشی پرواز مکمل کی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں چار پروٹوٹائپ ماڈلز کے ذریعے کارکردگی، حفاظتی نظام اور فضائی معیارات کی جانچ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے چین کی عالمی ہوا بازی کی صنعت میں شمولیت کی کوششوں کو نئی توانائی ملے گی۔ تجارتی ترسیل سے قبل ممکنہ خریدار، بالخصوص ایمرجنسی سروسز اور بحری نگرانی کے ادارے، اس جدید طیارے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button