
ایک حالیہ بین الاقوامی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتے درجہ حرارت اور ہیٹ ویوز حاملہ خواتین اور ان کے نومولود بچوں کی صحت پر سنگین اثرات ڈال سکتے ہیں، جن میں قبل از وقت پیدائش، اسقاطِ حمل اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں۔
یہ مطالعہ کولمبیا یونیورسٹی کے میلمن سکول آف پبلک ہیلتھ کے محققین نے کیا، جس میں دنیا بھر کے 222 ممالک اور خطوں سے 38 ہزار سے زائد سائنسی مطالعات کا تجزیہ شامل تھا۔ محققین نے 1990 سے 2022 کے دوران ماحولیاتی عوامل اور زچگی سے متعلق دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لے کر نتائج مرتب کیے۔
تحقیق کے مطابق، شدید گرمی یا غیر معمولی درجہ حرارت نہ صرف حمل کی مدت پر اثرانداز ہو سکتا ہے بلکہ اس سے پیدا ہونے والے بچوں میں کم وزنی، پیدائشی نقائص اور ذہنی نشوونما میں رکاوٹ جیسے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ درجہ حرارت کی شدت بعض اوقات حمل کے دوران ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور پیچیدہ انفیکشنز کے خدشات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ترقی پذیر ممالک جن میں کیریبین، وسطی اور جنوبی امریکا، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور بحرالکاہل کے جزائر شامل ہیں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان خطوں میں صحت کا نظام محدود اور ناکافی ہونے کے باعث خواتین موسمیاتی اثرات سے مؤثر طور پر محفوظ نہیں رہ پاتیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی روشنی میں صحتِ عامہ کی پالیسیوں میں فوری اور مؤثر تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں گرمی سے بچاؤ کے لیے مقامی سطح پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، حاملہ خواتین کو موسم کی شدت سے ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کیا جائے، اور ہیٹ ویوز کے دوران ان کے لیے محفوظ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔