
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے کسانوں کے لیے تاریخی زرعی ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا۔ کسان کارڈ کے تحت قرض کی حد کو 1.5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جب کہ زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کے لیے 95 فیصد تک سبسڈی دی جائے گی۔
کالا شاہ کاکو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ اگلے سال 20 ہزار کسانوں کو سبز ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جائیں گے اور ہر تحصیل میں زرعی مشینری کرایے پر دینے کے مراکز قائم ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ، کسانوں کے لیے ایس ایم ایس اور ہیلپ لائن سسٹم بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ وہ آسانی سے حکومت سے رابطہ کر سکیں۔
گندم کے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 5,000 روپے کی براہ راست سبسڈی دی جا رہی ہے، اور کپاس کی جلد کاشت کے باعث پیداوار میں 30 سے 40 فیصد اضافے کی امید ہے۔
مریم نواز نے آپریشن "بنیان المرصوص” کی کامیابی، مہنگائی میں نمایاں کمی، اور عوامی ریلیف اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
یہ تمام اقدامات حکومت کے کسان دوست وژن اور معیشت کی بحالی کی عملی مثال ہیں۔