
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کا آغاز سعودی عرب سے کر دیا ہے، جہاں ریاض ایئرپورٹ پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر روایتی قہوہ بھی پیش کیا گیا ۔
یہ صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے کے بعد پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں اور خاص طور پر سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بڑے پیمانے پر معاشی معاہدے اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور محمد بن سلمان کی بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام، غزہ کی جنگ کا خاتمہ، تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور سعودی عرب کو ہتھیاروں کی نئی ڈیفنس ڈیل جیسے معاملات سرفہرست ہوں گے۔
ٹرمپ کے اس دورے میں اسرائیل کو شامل نہ کرنے پر عالمی اور بالخصوص اسرائیلی میڈیا میں سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ اگرچہ امریکی حکومت کی جانب سے باضابطہ بیان نہیں آیا، لیکن مبصرین کے مطابق واشنگٹن کی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ علاقائی سلامتی، ایران، اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے امریکا کی نئی حکمت عملی کو بھی واضح کرے گا۔ اس دورے کے اثرات دور رس اور عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔