
روسی صدر نے یوکرین کے ساتھ براہِ راست امن مذاکرات کی پیشکش کی ہے، جس میں انہوں نے 2022 میں ہونے والے مذاکرات کو بنیاد بنانے کی بات کی ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ پائیدار، مضبوط امن کی طرف بڑھنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے استنبول میں بات چیت کی پیوٹن کی دعوت کو ایک مثبت اشاررہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جنگ کو واقعی ختم کرنے کا پہلا قدم جنگ بندی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر روس واقعی امن چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے۔
یورپی رہنماؤں نے زیلنسکی کے موقف کی حمایت کی ہے اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرے ورنہ اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن کی مذاکرات کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو تو 15 مئی ایک عظیم دن ہو گا۔ انہوں نے اس حوالے سے دونوں فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا۔
ترکیہ نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، اور صدر رجب طیب اردوان نے اسے تنازع کے خاتمے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
دونوں فریقین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اس پیش رفت کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پائیدار امن کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔