
کیتھولک چرچ نے بدھ کے روز اپنے 267ویں روحانی پیشوا کے طور پر امریکی نژاد رابرٹ پریوسٹ کو منتخب کیا، جو اب پوپ لیو چہار دہم کے نام سے خدمات انجام دیں گے۔ انتخاب کا اعلان سینٹ پیٹرز بیسیلیکا کی مرکزی بالکونی سے تقریباً 70 منٹ بعد کیا گیا، جب سسٹین چیپل کی چمنی سے سفید دھواں اٹھا، اور ہزاروں افراد نے خوشی کا اظہار کیا۔
69 سالہ پریوسٹ کا تعلق شکاگو سے ہے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے پیرو میں بطور مشنری اور مقامی پادری خدمات انجام دیتے رہے، جس کے باعث انہیں لاطینی امریکہ کا نمائندہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس پیرو کی شہریت بھی ہے۔
ویٹیکن میں اپنے پہلے خطاب میں پوپ لیو چہار دہم نے دنیا بھر کے افراد کو خیرسگالی اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رہنمائی کا مقصد امن و آشتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے سابق پوپ فرانسس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت ان کے لیے ہمیشہ باعثِ افتخار رہی۔ یاد رہے کہ 2014 میں انہیں چیکلائیو کا بشپ بھی پوپ فرانسس نے ہی مقرر کیا تھا۔
پریوسٹ نے 1982 میں بطور پادری اپنے مذہبی سفر کا آغاز کیا اور 1985 میں پیرو منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے ٹرجیلو کے ایک مذہبی ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دیے۔ انہوں نے مقامی چرچز کو پسماندہ طبقات کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب پوپ فرانسس کی اصلاحاتی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق چونکہ کارڈینلز کی اکثریتی تقرریاں پوپ فرانسس کے دور میں ہوئیں، اس لیے یہ انتخاب متوقع تھا۔ پریوسٹ کا لاطینی امریکی پس منظر اور چرچ کے داخلی امور سے واقفیت انہیں ایک فطری جانشین بناتی ہے۔
پوپ لیو چہار دہم کی سابقہ تعیناتی کے دوران پیرو میں جنسی زیادتیوں سے متعلق ایک تنازع سامنے آیا تھا، تاہم ان کے ڈائوسیز نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر مرحلے پر شفاف اور ذمہ دارانہ طرزعمل اپنایا۔
ویٹیکن کے ترجمان میٹیو برونی نے انتخاب سے قبل کہا تھا کہ کارڈینلز اس بات پر متفق ہیں کہ نئے پوپ کو ایسا چرچ تشکیل دینا ہوگا جو صرف داخلی معاملات پر نہیں، بلکہ عالمی سطح پر امید، اتحاد اور اصلاحات کا پیغام دے۔
پوپ لیو چہار دہم اب اس وقت چرچ کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب ادارہ داخلی اصلاحات، سماجی شمولیت اور جدید دور کے چیلنجز کے مابین توازن کی تلاش میں ہے۔